اردوئے معلیٰ

دعا جو بھی مانگوں خدایا اثر دے

دعا جو بھی مانگوں خدایا اثر دے

مرے دل کو عشقِ شہِ دیں سے بھر دے

 

سبھی راستے بند کر کے تو یارب!

مجھے شہرِ سرکار کی رہگذر دے

 

تمنا نہیں سونے چاندی کی مجھ کو

مجھے علم و عرفاں کے تازہ ثمر دے

 

مجھے مصطفیٰ کا ہو دیدار حاصل

نگاہوں کو وہ لمحۂ معتبر دے

 

مجھے شہرِ طیبہ میں مسکن عطا کر

کوئی جھونپڑی چاہے کوئی کھنڈر دے

 

لبوں کا تبسم نہ اک پل ہو رخصت

الہٰی ! کرم جو ترا نام کر دے

 

اسے بھی ہے اڑنا فضائے ثنا میں

خدایا ! مرے طائرِ جاں کو پر دے

 

جو تیرے نبی کی محبت میں چمکیں

مری چشمِ تر کو وہ لعل و گہر دے

 

خزاں لے گئی خوشبوؤں کے خزانے

ہر اک دامنِ دل کو خوشبو سے بھر دے

 

سفر کوئی بھی ہو مری زندگی کا

خیال ان کا آواز ہر موڑ پر دے

 

مدینہ دکھا نورؔ کو ربِ اکبر

ہٹا دے نگاہوں سے دوری کے پردے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ