اردوئے معلیٰ

دلوں پہ یہ جو اثر گفتگو سے چھایا ہے

دلوں پہ یہ جو اثر گفتگو سے چھایا ہے

ہنر یہ لہجے میں مدحت کے بعد آیا ہے

 

حذر نہ کر کہ زمانہ ہے باخبر اس سے

گرا نہیں جسے سرکار نے اٹھایا ہے

 

ہے اس کی چھاؤں کی ٹھنڈک تمام عالم پر

درخت آپ نے جو دشت میں لگایا ہے

 

جبینِ لو کو ہوا چومتی ہے ناز کے ساتھ

دئیے پہ آپ کے دیوار و در کا سایہ ہے

 

نگاہِ خامہ سے کاغذ کے آسماں کو دیکھ

ہلالِ حرفِ ثنا پھر سے مسکرایا ہے

 

دکھائی دیتی ہے خوابوں میں سبز ُرت مجھ کو

یہ لگ رہا ہے پلٹنے کو میری کایا ہے

 

وہ کتنی عظمتوں والا مرا نبی ہے جسے

خدا کا عرشِ بریں سے سلام آیا ہے

 

جو عزوجل کی طرف جاتا ہے ہمیں لے کر

ہمیں حضور نے وہ راستہ دکھایا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ