اردوئے معلیٰ

Search

دلوں کا میل اگر دور ہو نہیں سکتا

کوئی بھی قرب سے مسرور ہو نہیں سکتا

 

وہ جس میں حبِّ محمد کی شمع روشن ہو

وہ دل لحد میں بھی بے نور ہو نہیں سکتا

 

سبق یہ عصرِ رواں سے ملا، کوئی سلطاں

ولی کی طرح سے مشہور ہو نہیں سکتا

 

مئے یقیں کا کوئی جرعہ پی کے دیکھ ذرا

یہ َنشَّہ وہ ہے جو کافور ہو نہیں سکتا

 

عمل گریز کوئی دعوئے مسلمانی

کسی بھی شکل میں منظور ہو نہیں سکتا

 

یقیں کی دولتِ بیدار جس کو حاصل ہو

وہ حادثات سے رنجور ہو نہیں سکتا

 

خیال و خواب ہے فوز و فلاح بھی جب تک

عمل خلوص سے بھرپور ہو نہیں سکتا

 

طریق، چند شیاطین جو بنا ڈالیں

وہ دینِ حق کا تو دستور ہو نہیں سکتا

 

یہی ہے ختمِ نُبوت کا مدَّعا احسنؔ

مُطَاع اب کوئی مامور ہو نہیں سکتا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ