دلوں کو با خبر کر لو مرے آقا کی آمد ہے

دلوں کو با خبر کر لو مرے آقا کی آمد ہے

نگاہیں معتبر کر لو مرے آقا کی آمد ہے

 

تڑپنا چھوڑ دو اے غم کے مارو ، بے سہارو سب

مقدّر باثمر کر لو مرے آقا کی آمد ہے

 

کرم کی بدلیاں چھائی ہوئی ہیں آسمانوں پر

دُعائیں پُراثر کر لو مرے آقا کی آمد ہے

 

ادا کرتے ہوئے شکرِ خدا سارے درودوں سے

زبانیں اپنی تر کر لو مرے آقا کی آمد ہے

 

سبھی جبریل کی طرح لگا کر سبز جھنڈے بھی

سبھی روشن نگر کر لو مرے آقا کی آمد ہے

 

بنیں گی بگڑیاں ساری حلیمہ سعدیہ دیکھو

سب اپنی جھولیاں بھر کر لو مرے آقا کی آمد ہے

 

رضاؔ جی بٹ رہا ہے جامِ امرت مکے میں آؤ

پیو خود کو امر کر لو مرے آقا کی آمد ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مری جاں سے قریں میرا خُدا ہے
دل کہاں ضبط میں ہے،آنکھ کہاں ہوش میں ہے
بھیک ہر ایک کو سرکار سے دی جاتی ہے
شاہا ! سُخن کو نکہتِ کوئے جناں میں رکھ
اور کیا چاہیے بندے کو عنایات کے بعد
محظوظ ہو رہے ہیں وہ کیفِ طہور سے
عدن بنا گیا مسجد کو اپنے سجدوں سے
ہر لفظ حاضری کا سوالی ہے نعت میں
کر کے رب کی بندگی خاموش رہ
یہ لبوں کی تھرتھراہٹ یہ جو دل کی بے کلی ہے

اشتہارات