اردوئے معلیٰ

دل آج مرا منہمکِ کارِ ثنا ہے

دل آج مرا منہمکِ کارِ ثنا ہے

اس بندۂ عاجز پہ یہ احسانِ خدا ہے

 

لاریب کہ جس روز سے یہ چاند چڑھا ہے

ظلمت کی قبا چاک ہے بارانِ ضیا ہے

 

از قولِ ” لَقَد مَنَّ ” پتہ مجھ کو چلا ہے

بعثت شہِ کونین کی اک خاص عطا ہے

 

ظلمت کدۂ دہر میں وہ شمعِ ہدیٰ ہے

ہر طالبِ منزل کے لئے راہنما ہے

 

قسّامِ ازل نے کوئی رس گھول دیا ہے

شیریں سخنی نطقِ محمد پہ فدا ہے

 

سرچشمۂ فیض و کرم و جود و سخا ہے

وہ جامعِ اوصافِ حمیدہ بخدا ہے

 

ہر حرفِ سخن گوہرِ شب تاب ہو جیسے

ہر قول فقیہانہ ہے حکمت سے بھرا ہے

 

صناعی فطرت کا ہے بے مثل نمونہ

سر تا بہ قدم حسن کے سانچہ میں ڈھلا ہے

 

وہ رحمتِ عالم ہے وہ ہے منبعِ رافت

اخلاقِ مجسم ہے وہ فانوسِ حیا ہے

 

حیرت زدۂ قصۂ معراج ہے دنیا

کیا طرفگی فیصلۂ قدر و قضا ہے

 

وہ مرکزِ امیدِ خلائق سرِ محشر

ہر فرد جدھر وہ ہیں اُدھر بھاگ رہا ہے

 

وہ عالمِ ناسوت ہو یا عالمِ لاہوت

اک غلغلۂ صلِّ علیٰ صلِّ علیٰ ہے

 

فکر و غمِ امت میں نہیں آنکھ لگائی

ہے آخرِ شب اور وہ مصروفِ دعا ہے

 

کیفیتِ صہبائے حقیقت وہی جانے

جس نے کہ خمستانِ محمد سے پیا ہے

 

اللہ دکھائے کبھی بیتاب نظرؔ کو

وہ شہر کہ آئینۂ فردوس بنا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ