اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

دل میں اب کوئی ترے بعد نہیں آئے گا

دل میں اب کوئی ترے بعد نہیں آئے گا

سنگِ ارزاں تہِ بنیاد نہیں آئے گا

 

دن نکلتے ہی بُھلا دوں گا میں اندیشۂ روز

سرحدِ صبح میں شب زاد نہیں آئے گا

 

ایسے اک طاقِ تمنا پہ رکھ آیا ہوں چراغ

بجھ گیا بھی تو مجھے یاد نہیں آئے گا

 

حسنِ خود دار کو اِس دورِ خود آرا میں بہم

ہنر مانی و بہزاد نہیں آئے گا

 

طوقِ زرناب ہوئے زیبِ گلوئے گفتار

اب کہیں سے سخن آزاد نہیں آئے گا

 

فرقِ زندان و گلستان بھی سب دیکھ لیا

لب پر اب شکوۂ صیاد نہیں آئے گا

 

کھوج کس کی ہے تمہیں راہ نوردانِ فراق

اب کوئی قریۂ آباد نہیں آئے گا

 

عشرتِ سایۂ دیوار کی چالوں میں دگر

پائے درماندۂ افتاد نہیں آئے گا

 

اب کسی شعبدہ گر دامِ عنایت میں ظہیرؔ

یہ دلِ خوگرِ بیداد نہیں آئے گا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سمجھو کہ ہجرت کے طلسمات میں گم ہیں
نہ عشق میں نہ ریاضت میں دھاندلی ھُوئی ھے
جلوۂ ماہ ِ نو ؟ نہیں ؟ سبزہ و گل ؟ نہیں نہیں
اسی کے ہاتھ میں اب فیصلہ تھا،ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا
وہ بھی اب یاد کریں کس کو منانے نکلے؟
اس قدر تیر کمیں گاہِ جنوں سے نکلے
موند کر آنکھ اُن آنکھوں کی عبادت کی جائے
زخم ایسا نشاں میں آئے گا
کھو چکا قبل ازیں بول کے گویائی بھی
داغِ جنوں دھلے تو بہت صاف رہ گئے