دل میں جو خلش پنہاں ہے کہیں، اس کا ہی تو یہ انجام نہیں

دل میں جو خلش پنہاں ہے کہیں، اس کا ہی تو یہ انجام نہیں

دل وقفِ غم و آلام ہوا، اب دل میں خوشی کا نام نہیں

 

مرہونِ حقیقت ہیں اب ہم، باطل سے ہمیں کچھ کام نہیں

احسانِ نگاہِ ساقی ہے، اب شغلِ مئے گل فام نہیں

 

احساسِ زیاں تو رکھتے ہیں، لیکن یہ بروئے کار بھی ہو

منزل کی طلب ہے دل میں مگر، منزل کی طرف اقدام نہیں

 

خورشیدِ منور، نجمِ فلک، دونوں سے سبق یہ ملتا ہے

جو شام کو آیا صبح نہیں، جو صبح کو آیا شام نہیں

 

اے جادۂ الفت کے راہی، اے خوبیِ قسمت کے مالک

تُو فائزِ منزل ہو کہ نہ ہو، ہر حال میں تُو ناکام نہیں

 

رنگینیِ فطرت ہے قائم، پر ان کے ایک نہ ہونے سے

اب صبح میں کیفِ صبح نہیں، اب شام میں کیفِ شام نہیں

 

بس نفس سے رشتہ باقی ہے، اب روح سے رشتہ ٹوٹ چکا

جینے کی دعا کیوں دیتے ہو؟ زندوں میں نظرؔ کا نام نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

لذتِ کام و دہن سے ماورا مقصود ہے
رات پیاسا تھا میرے لوہو کا
لوگ الجھتے رہے مداری سے
آج بھی ہے مرا ہم سفر آئینہ
وہ بار بار مرا ظرف آزماتے ہوئے
تیغ نگہ دیدۂ خوں خار نکالی
یار بجا یار نہیں رہ گئے
جنتر منتر دھاگے شاگے جادو ٹونے والوں نے
کہنا ایں کہ بیڑیاں پیراں چ نیں
ارادے خستہ ، قدم شکستہ، شنید ہجرت

اشتہارات