اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

دل کہ اک جزیرہ ہے

دل کہ اک جزیرہ ہے
گہرے سرد پانی میں
منجمد سفینہ ہے
درد کی روانی میں
برف سارا عالم ہے
سرمئی سے موسم میں
منجمد سے روز و شب
کُہر کے نقابوں سے
چہرہ تکتے رہتے ہیں
اجنبی زبانوں میں
اَن کہی سی کہتے ہیں
اک طرف شمال کی
ہفت رنگ روشنی
آرزو کے پردے پر
رنگ رنگ خوابوں کا
جال بُنتی رہتی ہے
آس لکھتی رہتی ہے
دل میں جھانک کر میرے
چپکے چپکے کہتی ہے
رات پھر بھی رات ہے
رات کی شکایت تو
ناروا سی بات ہے
گرچہ ناروا ئی میں
ناروے کی رات ہے
وقت ہی تو ہے آخر
وقت بیت جاتا ہے
درد جتنا ظالم ہو
صبر جیت جاتا ہے
بے لحاظ ہے موسم
بے زوال تو نہیں
دوریوں کے ماہ و سال
نوری سال تو نہیں
گردشِ زماں نہیں
گردشِ زمین ہے
صبح کے نکلنے کا
تم کو تو یقین ہے
کچھ ہی روز باقی ہیں
برف کے پگھلنے میں
تیرگی کے پردے سے
نور کے نکلنے میں
رات کا تماشا اب
کچھ ہی دیر ہونا ہے
اس کے بعد ہر طرف
روشنی کا سونا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

فیکون
فروغ فرخ زاد کے نام
مسلم سربراہ کانفرنس
گوشوارہ
اپنے سر تیرے تغافل کا بھی الزام لیا ہے
اب کوئی در، نہ کوئی راہ گزر دیکھوں گا
مجھ کو درونِ ذات کا نقشہ دکھائی دے
قتیلِ درد ہوا میں تو غمگسار آئے
مری نظر میں تری آرزو نظر آئے
اک بات کہہ رہا ہوں لہجے بدل بدل کے