اردوئے معلیٰ

دل کہ ہر خواب سے محروم ہوا چاہتا ہے

ہجر ، اب عمر کا مفہوم ہوا چاہتا ہے

 

حافظے میں یہ مرے نقش بٹھا لو کیونکہ

یہ وہ منظر ہے کہ معدوم ہوا چاہتا ہے

 

سانس لینے کو کوئی اور سیارہ ڈھونڈو

کرہِ ارض تو مسموم ہوا چاہتا ہے

 

جستجو ، اور معمہ کوئی مانگے دل سے

موت کا راز تو معلوم ہوا چاہتا ہے

 

ایک لمحہ ، کہ کئی رنگ میں بیتا مجھ پر

سیکڑوں طور سے مرقوم ہوا چاہتا ہے

 

ٹوٹ گرنے کو ہے افلاکِ سخن ، اور اس پر

اک خدا ہے کہ جو مرحوم ہوا چاہتا ہے

 

قید ہونے کو ہے پھر آخری ہچکی دل کی

سانحہ ہے کہ جو منظوم ہوا چاہتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات