دل کے صحرا میں کھلے لالۂ طاعت آقا ﷺ!

دل کے صحرا میں کھلے لالۂ طاعت آقا ﷺ!

مجھ کو حاصل ہو کبھی یہ بھی سعادت آقا ﷺ!

 

کاش وہ دن بھی کبھی آئے کہ میں دیکھ سکوں

شہرِ کردار پہ بس تیریؐ حکومت آقا ﷺ!

 

ہے مرا دعویٰ اُلفت ابھی محتاجِ دلیل

کاش اعمال کو مل جائے حرارت آقا ﷺ!

 

ہر عمل میں ہو مرے بوذرؓ و سلماںؓ کی جھلک

مجھ کو ہو جائے نصیب ایسی شباہت آقا ﷺ!

 

دیں کے پیغام کی تنویر سے روشن ہو جہاں

پھر نظر دیکھ سکے رنگِ اُخوت آقا ﷺ!

 

کاش بیدار ہو پھر جذبۂ تعمیر کے ساتھ

ایک مدت سے ہے خوابیدہ یہ ملت آقا ﷺ!

 

دِرہمِ حسنِ عمل سے ہے یہ کشکول تہی

منتظر ہوں کہ بڑھے دستِ سخاوت آقا ﷺ!

 

جتنی ہوتی ہے مرے عہد سے آگاہ نظر

اُڑتی جاتی ہے مرے چہرے کی رنگت آقا ﷺ!

 

حسنِ اِخلاص کے پھولوں سے سجائوں آنگن

میری جانب بھی ہو وہ چشم عنایت آقا ﷺ!

 

کاش مل جائے ہر اِک دل کو مرا کربِ دروں

کاش بڑھ جائے مرے درد کی وسعت آقا ﷺ!

 

میرے خوابوٖں کو بھی اظہار کی تعبیر ملے

میرے لہجے کو میسر ہو صداقت آقا ﷺ!

 

منتظر ایسے ہی لمحے کا عزیزؔ احسن ہوں

اِک توجہ سے بڑھا دیں مری عزت آقا ﷺ!

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

رَب کا منشا تھا حضور ﷺ آپ کا ظاہر ہونا
کوئی ہم پایہ ، نہ ثانی ترا کونین میں ہے
پروردگار! صاحبِ ایمان کیا کریں
مرے رہنما نے کیا کیا نہیں معجزے دکھائے
ازل سے خلق میں پہلا جو نقش ﷺ روشن ہے
آخری وقت میں کیا رونقِ دنیا دیکھوں
مسلماں اپنے آقا ﷺ کی اگر سیرت کو اپنا لے
سُتوں کی دیکھ کر حالت صحابہ سر بسر روئے
وصال میں بھی چھپی ہے نوید کیا کہنے
درود پڑھتی ہیں عندلیبیں سلام بھیجیں یہ پھول سارے