دنیا کے شہنشاہوں سے اعلٰی ہوں بھلا ہوں

دنیا کے شہنشاہوں سے اعلٰی ہوں بھلا ہوں

کیونکہ درِ سرکارؐ کے ٹکڑوں پہ پلا ہوں

 

حیران ہو کس واسطے خوشیوں پہ مری تم

لوگو میں مدینے کی زیارت کو چلا ہوں

 

اٹھتا نہیں جو سر تو یہ ان کی ہے عنایت

ہے بارِ کرم ، جود و سخا جس میں دبا ہوں

 

میں سحرِ مدینہ میں ہوں کھویا ہوا ایسے

باقی نہیں میں کچھ بھی رہا، حرفِ دعا ہوں

 

نسبت ہے فقط آپؐ سے، عاصی ہوں وگرنہ

نازاں ہوں ، غلاموں میں ہوں ، راضی بہ رضا ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

رنگ بکھرے ہیں مدینہ میں وہ سرکار کہ بس !
واہ کیا مرتبہ ہوا تیرا
کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
نبی کے برابر ہوا ہے نہ ہو گا
آپؐ کے آستاں پہ جاتے ہیں
آپؐ کے آستاں پہ آتا ہوں
وہی محبوب، محبوبِ خُداؐ ہے
خدا کا، عشق محبوبِ خدا کا
واصف نبی کا اپنے یہاں جو بشر نہیں
کمال اسم ترا، بے مثال اسم ترا