اردوئے معلیٰ

Search

دوستوں کو دشمنوں کو بھول کر

اک ملن سب مسئلوں کو بھول کر

 

اک پرانی یاد کو تازہ رکھا

روزمرہ سانحوں کو بھول کر

 

پوچھنا یہ ہے کہ ہجرت نصیب

کیسے زندہ ہیں گھروں کو بھول کر

 

اک نئی صورت کے دلدادہ ہوئے

پچھلے سارے رابطوں کو بھول کر

 

عشرتِ امروز میں گم گشتگی

آنے والی ساعتوں کو بھول کر

 

ٹوٹ کر اس سے ملا تھا نقشؔ میں

سب دکھوں ، سب رت جگوں کو بھول کر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ