اردوئے معلیٰ

Search

دوش دیتے رہے بیکار ہی طغیانی کو

ہم نے سمجھا نہیں دریا کی پریشانی کو

 

یہ نہیں دیکھتے کتنی ہے ریاضت کس کی

لوگ آسان سمجھ لیتے ہیں آسانی کو

 

بے گھری کا مجھے احساس دلانے والے

تو نے برتا ہے مری بے سر و سامانی کو

 

شرمساری ہے کہ رکنے میں نہیں آتی ہے

خشک کب تک کوئی کرتا رہے پیشانی کو

 

آپ سے کس نے طلب کی ہے جنوں پر رائے

چھوڑئیے آپ مری چاک گریبانی کو

 

جیسے رنگوں کی بخیلی بھی ہنر ہو اظہرؔ

غور سے دیکھیے تصویر کی عریانی کو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ