اردوئے معلیٰ

دونوں جہاں میں حسن سراپا ہیں آپ ہی

دونوں جہاں میں حسن سراپا ہیں آپ ہی

بے شک فروغ عرش مُعلاّ ہیں آپ ہی

 

ہر اہل دل کی جان تمنا ہیں آپ ہی

میں کیا کہوں کہ فخرِ مسیحا ہیں آپ ہی

 

بدرِ منیر آپ ہیں طیبہ کے بے گماں

فضلِ خدا سے نیر بطحا ہیں آپ ہی

 

دل کی نظر سے اپنے جدھر دیکھتا ہوں

ہر شئے میں اس جہاں ہویدا ہیں آپ ہی

 

ایسا کہاں کوئی کہ میں جس کی مثال دوں

اہلِ وفا کی آنکھ کا تارا ہیں آپ ہی

 

لائے کہاں سے جا کے کوئی آپ کی نظیر

گردوں پہ کبریا کے دل آرا ہیں آپ ہی

 

ہمسر کہاں سے لائے کوئی آپ کا حضور

دونوں جہاں میں برتر و اعلا ہیں آپ ہی

 

حیرت ذدہ ہیں مانی و بہزاد دیکھ کر

بے مثل شاہکارِ زمانہ ہیں آپ ہی

 

نازاں نہ کیوں نصیب پہ اپنے ہو عمر بھر

راہی خوش نصیب کے آقا ہیں آپ ہی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ