دُھوپ میں تلاشِ سائباں

مجھے یقیں ہے
وہ سن رہے ہیں نگاہِ خاموش کی صدائیں
دُکھوں سے بوجھل مری نوائیں
وہ جانتے ہیں
ہزارہا درد و غم کی شمعیں
فسردہ سینوں میں جل رہی ہیں
یہ جسم و جاں جو شکست خوردہ ہیں سوچتے ہیں
غم و الم کی جو دھوپ پھیلی ہوئی ہے اس میں
کرم کے بادل سروں پہ اک سائباں بنانے
دیارِ رحمت سے کیوں نہیں اُٹھ سکے ابھی تک
مجھے یقیں ہے
اور اس یقیں پر حیاتِ امروز کا تسلسل
حیاتِ فردا کی خوش دلی کی طرف رواں ہے
یہ دورِ جبر و ستم بہت جلد دُور ہوگا
محبتوں کا ظہور ہوگا
کرم نبی کا ضرور ہوگا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ