اردوئے معلیٰ

Search

دکھا دیجے عاصی کو شہرِ مدینہ

نہیں آتا گو بندگی کا قرینہ

 

وسائل مہیا نہیں کم تریں کو

ہوں اسباب پیدا تو آؤں مدینہ

 

یہاں بھی کہیں خلد میں کہیں گے

مہکتا ہوا ہے نبی کا پسینہ

 

طلبگار جنت کا ہے شیخ تو ہو

میری آرزو تو ہے شہرِ مدینہ

 

کبھی وہ نہ دوزخ میں جائے گا زاہد

وہ جس نے کہ اک بار دیکھا مدینہ

 

کسی اور جلوے کی چاہت نہیں ہے

نگاہوں میں پھرٍتا ہے شہرِ مدینہ

 

فداؔ منتظر ہوں اسی روز کا میں

کہے کوئی آ کے کہ جاؤ مدینہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ