دہر پر نور ہے ، ظلمات نے منہ موڑ لیا

دہر پر نور ہے ، ظلمات نے منہ موڑ لیا

آپ کے آنے سے حالات نے منہ موڑ لیا

 

مل رہی ہے مجھے ہر گام مسرت دائم

اُن سے الفت ہوئی صدمات نے منہ موڑ لیا

 

سنتے ہی آیۂ فرقان وہ لائے ایمان!

یوں ابوالحفص کے جذبات نے منہ موڑ لیا

 

ذکرِ احمد سے ہوئی دور بلائیں ساری

نعتِ سرکار سے آفات نے منہ موڑ لیا

 

نور چمکا جو زمانے میں حبیبِ رب کا

چھٹ گیا ظلم ، سیہ رات نے منہ موڑ لیا

 

کون محشر میں بچائے گا قمرؔ تجھ بد کو

دیکھ کر کام جو اس ذات نے منہ موڑ لیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ