اردوئے معلیٰ

دیارِ شوق کے سب منظروں سے اونچا ہے

یہ سنگِ در ترا سارے گھروں سے اونچا ہے

 

مقامِ عجز کو بخشی گئی ہے رفعتِ خاص

جو سر خمیدہ ہے وہ ہمسروں سے اونچا ہے

 

فرازِ طور کی خواہش نہ کر ابھی اے عشق

یہ آسمان ابھی تیرے پروں سے اونچا ہے

 

خدا مدد! کہ یہ شیطانِ نفسِ امّارہ

مرے اُچھالے ہوئے کنکروں سے اونچا ہے

 

فریبِ قامتِ رہبر نہ کھاؤ ہمسفرو

وہ دیکھو قدِ عَلم رہبروں سے اونچا ہے

 

یہ اشکِ ہجر تو سیلاب بن گیا ہے ظہیرؔ

جدھر بھی دیکھئے پانی سروں سے اونچا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات