دیدۂ شوق تو دیدار کی خواہش کو سنبھال

دیدۂ شوق تو دیدار کی خواہش کو سنبھال

چشمِ پُر نم کی درِ یار پہ بارش کو سنبھال

 

وہ کرم کر دیں گے تو بھیج درودی تحفے

نہ مچل ضد نہیں کر عشق کی آتش کو سنبھال

 

کوچۂ عشق سے مشکل ہے گزرنا اے دل

گر گزرنا ہے تو دھڑکن کی بھی لرزش کو سنبھال

 

تندیِ بادِ مخالف سے زبوں حال ہوں میں

نا خدا آ مرے حالات کی گردش کو سنبھال

 

غرفۂ نعت میں ہوں کاسہ بکف، اذن طلب

اے کریم آج مری خواہش و کاوش کو سنبھال

 

شوقِ مدحت میں بُنے لفظ مرے ہوں مقبول

سب نعم کر دے عطا، نطق کی کوشش کو سنبھال

 

منتشر ہونے کو ہے مصحفِ اعمالِ زیاں

شافعِ حشر مری عرضیِ بخشش کو سنبھال

 

جیسے دنیا میں رکھا تو نے بھرم منظر کا

روزِ محشر بھی یونہی نامۂ لغزش کو سنبھال

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ