اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

دیدہ وروں سے کور نگاہی ملی مجھے

دیدہ وروں سے کور نگاہی ملی مجھے

ایسے پڑھے ورق کہ سیاہی ملی مجھے

 

کس دشت میں چلا ہوں کہ احساس مر گیا

صورت دکھائی دی نہ صدا ہی ملی مجھے

 

خالی پیالے سینکڑوں ہاتھوں میں ہر طرف

تشنہ لبی اور ایک صراحی ملی مجھے

 

ہمزاد میرا مر گیا میری انا کے ساتھ

ورثے میں تخت ذات کی شاہی ملی مجھے

 

اپنی نظر میں خود مری توقیر بڑھ گئی

جب سے تری نظر کی گواہی ملی مجھے

 

دیوار اختلاف سلامت ہے شہر میں

دونوں طرف ہی ورنہ تباہی ملی مجھے

 

چاروں طرف خزانے محبت کے ہیں ظہیرؔ

جو چیز میں نے پیار سے چاہی ملی مجھے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اس لب کی خامشی کے سبب ٹوٹتا ہوں میں 
معلُوم ھے جناب کا مطلب کچھ اَور ھے
یار کی دستک پہ بھی تُو نے یہ پُوچھا: کون ھے ؟
حسین ہونٹ اگر ہیں تو گال اپنی جگہ
جھوٹا ہوں دھوکے باز ہوں اچھا نہیں رہا
ملتی نہیں منزل تو مقدر کی عطا ہے
خلعتِ خاک پہ ٹانکا نہ ستارہ کوئی
اب بھی ہے یاد مجھ کو پہلی لگن کا جادُو
ممکن ہوا نہ لوٹ کے آنا کبھی مجھے
مدفون مقابر پہ تحاریر کی صورت