اردوئے معلیٰ

دیکھیں گے مدینہ ترے گلزار کا موسم

عنبر میں دھلے کوچہ و بازار کا موسم

 

خوشبو سے معطّر ہیں زمانے کی فضائیں

جس سمت بھی دیکھا ہے ترے پیار کا موسم

 

دنیا میں ترے نام کی کیا دھوم مچی ہے

رقصاں ہے ِتری یاد میں سنسار کا موسم

 

اُمت تِری ‘ گمراہی کی دلدل میں دھنسی ہے

اے کاش ! بدل جائے یہ کردار کا موسم

 

ہوتا رہے دن رات درودوں کا وظیفہ

ہو جائے معطرّ مرے گھر بار کا موسم

 

ہم اُن کی غلامی کا پہن لیں جو قلادہ

بگڑے نہ کبھی سیرت و کردار کا موسم

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات