ذرا سی دیر میں آنے کا کہہ گیا تھا کوئی

ذرا سی دیر میں آنے کا کہہ گیا تھا کوئی

ذرا سی دیر بڑی دیر سے نہیں آئی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مجھ کو سارا حساب آتا ہے
جا محبّت کی نئی قِسم مِرے سامنے لا
یوں تو شہر میں دس مے خانے ہیں لیکن
نیکیاں ! اپنی اپنی لے آؤ
دل جہاں کھویا، وہیں پندارِ غم بھی کھودیا
نہ آئی بات تک بھی منہ پہ رعب حسن جاناں سے
وہی لہجہ ہے مگر یار ترے لفظوں میں
مرے ناشاد رہنے سے اگر تجھ کو مسرت ہے
کچھ تو رہے اسلاف کی تہذیب کی خوشبو
زندگی کے اداس قصے میں