ذرّہ ، ذرّہ جہاں کا بنا طور ہے

ذرّہ ، ذرّہ جہاں کا بنا طور ہے

جس طرف دیکھئے نور ہی نور ہے

 

کس کی آمد کے چرچے ہیں کیوں آج یہ

سارا عالم مسرت سے معمور ہے

 

کس لیے ہے فلک سر جھکائے ہوئے

کیوں زمیں اپنی قسمت پہ مغرور ہے

 

جشن برپا ، صدائیں ہیں صلِّ علیٰ

کیوں مَلَک شادماں ، دنیا مسرور ہے

 

ہر طرف راحتیں کیوں نئی رونقیں

ایسا کیا ہے کہ رنج و بلا دور ہے

 

کس لیے خلق حیرت زدہ چار سو

کیوں یہ چشمِ فلک آج مخمور ہے

 

آئی ، آئی ندا دیکھو ، دیکھو ذرا

آج سرکار کا جشنِ پُرنور ہے

 

اُن کے آنے سے خوشیاں دوبالا ہوئیں

اس لیے کوئی غمگیں نہ مجبور ہے

 

عاشقانِ نبی شادماں ہیں رضاؔ

ایک شیطان ہے جو کہ رنجور ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مجھے کامل یقین ہے، التجاؤں میں اثر ہو گا
بے نوا ہوں مگر ملال نہیں
عشق کا ہے یہ ہنر،میں ہوں یہاں نعت خواں
سرکار کی مدحت کو ہونٹوں پہ سجانا ہے
’’اے خاور حجاز کے رخشندہ آفتاب‘‘
جبینِ خامہ حضورِ اکرم کے سنگِ در پر جھکائے راکھوں
کسے نہیں تھی احتیاج حشر میں شفیع کی
میم تیرے نام کی تلخیصِ ہست و بود ہے
پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
آپؐ سے میری نسبت مرا فخر ہے

اشتہارات