ذرہ کرے خورشید کی مدحت تو عجب کیا

ذرہ کرے خورشید کی مدحت تو عجب کیا

پائیں مرے لب نعت کی رفعت تو عجب کیا

 

ویسے تو کہاں قابل بخشش ، میرے اعمال

لیکن وہ کریں میری شفاعت تو عجب کیا

 

رکھتے ہیں صرف اتنا نشاں ، ہم فقیر لوگ

ذکر نبی جہاں ہے وہاں، ہم فقیر لوگ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مدحـــــتِ ختمِ رسل اور زبانِ بســــــملؔ
ابرِ کرم ہے جن کی ذات، وجۂ سکوں ہے جن کا نام
نگاہِ ملتفت آقاؐ مرے مجھ پر سدا رکھنا
دل و جاں میں قرار آپؐ سے ہے
وہ خوش قسمت ہیں جن کی آپؐ کے در تک رسائی ہے
درِسرکارؐ کا جو بھی گدا ہو
چلو شہر نبیؐ کی سمت سب عشاق چلتے ہیں
ہے شہرہ آپؐ کا سارے جہاں میں
’’ گونج گونج اُٹھّے ہیں نغماتِ رضاؔ سے بوستاں ‘‘
’’پیا ہے جامِ محبت جو آپ نے نوریؔ ‘‘

اشتہارات