اردوئے معلیٰ

ذکرِ صلّ علیٰ ہے زباں پر ‘ کیسی خوشبو فضا میں رچی ہے

سارا ماحول نکھرا ہوا ہے اور ہواؤں میں بھی تازگی ہے

 

اتنا میٹھا ہے اسمِ محمد اس کی شیرینی کیونکر بیاں ہو

ہونٹ لیتے ہیں آپس میں بوسے اس قدر نام میں چاشنی ہے

 

تھا زمانے میں ظلمت کا ڈیرا ‘ آپ آئے تو پھوٹا سویرا

چہرۂ دلربا کے تصدّق سارے عالم میں یہ روشنی ہے

 

لب پہ نغمے ہوں نعتِ نبی کے ‘ ہاتھ میں دامنِ مصطفٰے ہو

کوئی پوچھے کوئی اور خواہش میں کہوں بس یہی آخری ہے

 

میرے سرکار قدرت نے تجھ کو ہے سراجاً مُّنیرا بنایا

نور ہی نور ہے اُس فضا میں جس جگہ تیری جلوہ گری ہے

 

اب تو مجھ کو مدینے بلا لو ‘ اپنے پیاسے کو جلوہ دکھا دو

تیرے درشن سے ہی بجھ سکے گی میری آنکھوں میں جو تشنگی ہے

 

یہ جلیل آ کے در پر کھڑا ہے اور ہونٹوں پہ یہ التجا ہے

آپ اپنی غلامی میں لے لیں ‘ بس یہی حاصلِ زندگی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات