اردوئے معلیٰ

ذکرِ رحمتِ مآب ہو جائے

رت جگوں میں کتاب ہو جائے

 

دولتِ عشق اس قدر پاؤں

مفلسی ایک خواب ہو جائے

 

زُلفِ والیل کے وسیلے سے

ہر دعا مستجاب ہو جائے

 

دل کو آسودگی ملے ، آقا

ختم ہر اضطراب ہو جائے

 

قافلے اس برس بھی جائیں گے

اب مرا انتخاب ہو جائے

 

نعت آںکھوں میں مسکراتی ہو

اشک ٹپکے ، گلاب ہو جائے

 

اُن کی مدحت میں زندگی گزرے

سانس لینا ثواب ہو جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات