ذکرِ رحمتِ مآب ہو جائے

ذکرِ رحمتِ مآب ہو جائے

رت جگوں میں کتاب ہو جائے

 

دولتِ عشق اس قدر پاؤں

مفلسی ایک خواب ہو جائے

 

زُلفِ والیل کے وسیلے سے

ہر دعا مستجاب ہو جائے

 

دل کو آسودگی ملے ، آقا

ختم ہر اضطراب ہو جائے

 

قافلے اس برس بھی جائیں گے

اب مرا انتخاب ہو جائے

 

نعت آںکھوں میں مسکراتی ہو

اشک ٹپکے ، گلاب ہو جائے

 

اُن کی مدحت میں زندگی گزرے

سانس لینا ثواب ہو جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تیرے قدموں میں آنا میرا کام تھا
ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں
طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے
جب سے ہوا وہ گل چمن آرائے مدینہ
جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے
اعلیٰ واطہر و اکمل وکامل صلی اللہ علیٰ محمد
جو ترے در پہ، دوانے سے آئے بیٹھے ہیں
ایسے ہو حُسنِ خاتمہء جاں نثارِ عشق
مرے آقا کی مسجد کے منارے داد دیتے ہیں
یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا

اشتہارات