اردوئے معلیٰ

ذکر اتنا مرے حضور کا ہے

ذکر اتنا مرے حضور کا ہے

وَرَفَعنا مرے حضور کا ہے

 

گونجتا ہے جو ہر گھڑی مجھ میں

اک ترانہ مرے حضور کا ہے

 

مجھ پہ لازم ہے احترام اس کا

جو دوانہ مرے حضور کا ہے

 

روشنی جس کو لوگ کہتے ہیں

مسکرانا مرے حضور کا ہے

 

دل مرا اس لیے مہکتا ہے

دل میں آنا مرے حضور کا ہے

 

مجھ کو تقدیر لے کے جائے جہاں

آب و دانہ مرے حضور کا ہے

 

میں اُسی کا غلام ہوں جس نے

حکم مانا مرے حضور کا ہے

 

سب سخی ہیں کریم ہیں جس میں

وہ گھرانہ مرے حضور کا ہے

 

دل ہتھیلی پہ لے کے بیٹھا ہوں

حکم آنا مرے حضور کا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ