ذہن دل پر نقش ہے شہزاد کے طیبہ کا رنگ

 

ذہن دل پر نقش ہے شہزاد کے طیبہ کا رنگ

ورنہ کھو دیتا اسے بھی دین کے اعدا کا رنگ

 

اے محمد کے غلامو ہوش میں کب آؤ گے

جم رہا ہے پھر جہاں میں قیصر و کسریٰ کا رنگ

 

پیروی سنت سرکار میں رہتے جو تم

دیکھتی دنیا کہ ہوتا اور ہی دنیا کا رنگ

 

سبز گنبد سے جہاں میں روشنی ہی روشنی

مر کر تنویر و نکہت گنبد خضراء کا رنگ

 

آج ہی دل سے غلام مصطفیٰ ہو جائیں گر

دیکھتے ہیں کس طرح چھاتا نہیں عقبی کا رنگ

 

رد رنگ و نال کو سچائیوں سے مان لو

چار دن میں دیکھنا ہوتا ہے کیا دنیا کا رنگ

 

خواہش شہزاؔد ہے نعت نبی کہتا رہے

ایک دن آ جائے گا اشعار میں القا کا رنگ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

محبت ہو نہیں سکتی خُدا سے
نبیؐ اللہ کا مُجھ پر کرم ہے
حشر میں پھیلے گا جب سایۂ غُفرانِ وسیع
میں بے بس و لاچار ہوں، بیمار بہت ہوں
بھیک ہر ایک کو سرکار سے دی جاتی ہے
انداز زندگانی کے سارے بدل کے آ
جب اوجِ سخن کعبۂ ادراک میں خم ہو
کہاں سے لاؤں وہ حرف و بیاں نمی دانم
کچھ اور ہو گا رنگِ طلب ، جالیوں کے پاس
شاہ بطحا کی اگر چشم عنایت ہوگی