اردوئے معلیٰ

Search

 

ذہن دل پر نقش ہے شہزاد کے طیبہ کا رنگ

ورنہ کھو دیتا اسے بھی دین کے اعدا کا رنگ

 

اے محمد کے غلامو ہوش میں کب آؤ گے

جم رہا ہے پھر جہاں میں قیصر و کسریٰ کا رنگ

 

پیروی سنت سرکار میں رہتے جو تم

دیکھتی دنیا کہ ہوتا اور ہی دنیا کا رنگ

 

سبز گنبد سے جہاں میں روشنی ہی روشنی

مر کر تنویر و نکہت گنبد خضراء کا رنگ

 

آج ہی دل سے غلام مصطفیٰ ہو جائیں گر

دیکھتے ہیں کس طرح چھاتا نہیں عقبی کا رنگ

 

رد رنگ و نال کو سچائیوں سے مان لو

چار دن میں دیکھنا ہوتا ہے کیا دنیا کا رنگ

 

خواہش شہزاؔد ہے نعت نبی کہتا رہے

ایک دن آ جائے گا اشعار میں القا کا رنگ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ