اردوئے معلیٰ

Search

رات پیاسا تھا میرے لوہو کا

ہوں دوانہ ترے سگ کو کا

 

شعلۂ آہ جوں توں اب مجھ کو

فکر ہے اپنے ہر بن مو کا

 

ہے مرے یار کی مسوں کا رشک

کشتہ ہوں سبزۂ لب جو کا

 

بوسہ دینا مجھے نہ کر موقوف

ہے وظیفہ یہی دعا گو کا

 

میں نے تلوار سے ہرن مارے

عشق کر تیری چشم و ابرو کا

 

شور قلقل کے ہوتی تھی مانع

ریش قاضی پہ رات میں تھوکا

 

عطر آگیں ہے باد صبح مگر

کھل گیا پیچ زلف خوشبو کا

 

ایک دو ہوں تو سحر چشم کہوں

کارخانہ ہے واں تو جادو کا

 

میرؔ ہر چند میں نے چاہا لیک

نہ چھپا عشق طفل بد خو کا

 

نام اس کا لیا ادھر اودھر

اڑ گیا رنگ ہی مرے رو کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ