اردوئے معلیٰ

راہبر دیکھ لئے، راہ گزر دیکھ آئے

بیچ رستے سے ہم انجامِ سفر دیکھ آئے

 

عارضے اتنے نہیں جتنے مسیحا ہیں نصیب

غمگسار اپنی دعاؤں کا اثر دیکھ آئے

 

دیکھنے جس کو گئے تھے وہی بستی نہ ملی

یاد کے اجڑے ہوئے چند کھنڈر دیکھ آئے

 

نہ وہ منظر رہے باقی، نہ وہ آنکھیں ہی رہیں

شہر رفتہ کو بہ اندازِ دگر دیکھ آئے

 

اُس گلی میں بھی ہوا جانا جدھر جنت تھی

ہم سے دیکھا ہی نہ جاتا تھا مگر دیکھ آئے

 

ڈگمگائے تھے جہاں ہوش کے مدہوش قدم

ہجر پہلو میں لئے پھر وہ ڈگر دیکھ آئے

 

محفلِ غیر بھی اُجڑی ہوئی دیکھی اِس بار

بزمِ یاراں کو بھی ہم زیر و زبر دیکھ آئے

 

رشکِ افلاک ہیں وہ لوگ کہ جب دل چاہا

تری دہلیز پہ پہنچے، ترا در دیکھ آئے

 

ہم کھڑے تکتے ہیں قسمت کے ستاروں کو ظہیرؔ

دیکھنے والے تو مریخ و قمر دیکھ آئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات