رحمتوں کا سلسلہ اچھا لگا

رحمتوں کا سلسلہ اچھا لگا

یعنی ذکرِ مصطفیٰ اچھا لگا

 

ہے جہاں روضہ مرے سرکار کا

اس گلی کا راستہ اچھا لگا

 

آپ کی رحمت کا ہے سایہ بہت

کب مجھے ظلِ ہما اچھا لگا

 

اور بھی در ہیں زمانے میں مگر

ہم کو ان سے مانگنا اچھا لگا

 

رحمتِ عالم کے دستِ لطف سے

جو ملا ، جتنا ملا اچھا لگا

 

لوٹ کر آئی نہیں میری نظر

اتنا شہرِ مصطفیٰ اچھا لگا

 

سرورِ عالم سے ہے نسبت اسے

اس لیے غارِ حرا اچھا لگا

 

کاش کہہ دیں ایک دن میرے نبی

شعر یہ مجھ کو ترا اچھا لگا

 

حضرتِ نوّاب کے در پر مجیبؔ

دور دورہ نعت کا اچھا لگا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ