اردوئے معلیٰ

رحمتِ دو جہاں ، سیدِمرسلاں اور کوئی نہیں ہے سوا آپ کے

رحمتِ دو جہاں ، سیدِ مرسلاں اور کوئی نہیں ہے سوا آپکے

والیِ بے کساں ، مَوجبِِ کن فکاں اور کوئی نہیں ہے سوا آپکے

 

ہے کوئی آبشارِ تمنّا فزا اور کوئی یہاں آب جوئے ریا

پر جہانِ عطَش میں یمِ مہرباں ، اور کوئی نہیں ہے سوا آپکے

 

آگہی ہے متاعِ زمان و مکاں ، لاکھ ہو مال و زر باعثِ اطمیناں

دہرِ ایمان میں راحتِ ارمغاں اور کوئی نہیں ہے سوا آپکے

 

وہ سکندر ہو یا شاہِ ایران ہو ، ماہِ کنعان ہو یا سلیمان ہو

شوکتِ تاجداری میں شاہِ شہاں اور کوئی نہیں ہے سوا آپکے

 

محترم حسنِ ذوقِ کلیمی بھی ہے ، اُس کو پاسِ وفائے خلیلی بھی ہے

پھر بھی روزِ جزا ، شافع ِعاصیاں ، اور کوئی نہیں ہے سوا آپکے

 

ہو چراغِ زمیں یا چراغِ فلک جو ہے تاباں، ہے محدود مدت تلک

بامِ رفعت پہ جو ہو سدا صوفشاں اور کوئی نہیں ہے سوا آپکے

 

اوج پر جن کا ہے بخت ، ہیں مدح خواں ،اور ملائک مدینے کے ہیں پاسباں

سو زمِیں پر چمَکتا ہُوا آسماں اور کوئی نہیں ہے سوا آپکے

 

آپکا عکس ہر جذبِ نزہت میں ہے ، آپکا حسن گلہائے جنّت میں ہے

وجہِ زیبِ حسینانِ کون و مکاں اور کوئی نہیں ہے سوا آپکے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ