اردوئے معلیٰ

رحمتِ محبوبِ داور ہوگئی

رحمتِ محبوبِ داور ہو گئی

ساری دنیا خلد منظر ہو گئی

 

حُبِ آقا نے کیا دل میں قیام

"مشعلِ ایماں منور ہو گئی”

 

ختم ہونے کو ہے غم کا سلسلہ

مہرباں یادِ پیمبر ہو گئی

 

پڑ گئے جس خاک پر ان کے قدم

غیرتِ صد ماہ و اختر ہو گئی

 

دیکھیے فیضانِ نعتِ مصطفیٰ

نکہتِ گل بھی سخنور ہو گئی

 

چن لیا جس نے نبی کا راستہ

راستی اس کا مقدر ہو گئی

 

صدقۂ کوئے نبی جس کو ملا

ساری دنیا اس کی نوکر ہو گئی

 

ہر نظر تیری ، کرم کی آبرو

ہر ادا رحمت کا مصدر ہو گئی

 

پیروی سے ان کی دنیا بھی ملی

منزل فردوس بھی سر ہو گئی

 

نعت چھیڑی صبح کے آثار نے

ہر کلی کھل کر گل تر ہو گئی

 

التفات مصطفیٰ کے فیض سے

شاخ ایقاں بار آور ہو گئی

 

اشک یاد مصطفیٰ دل سے چلے

اور چشم تر سمندر ہو گئی

 

نورؔ اک ساعت کو آئی ان کی یاد

اور ہر ساعت معطر ہو گئی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ