رخ حیات کی تصویر ہیں مری غزلیں

رخ حیات کی تصویر ہیں مری غزلیں

حدیث قلب کی تفسیر ہیں مری غزلیں

 

خلاف صنف غزل جو زبان کھولتے ہیں

انہیں کے واسطے شمشیر ہیں مری غزلیں

 

عیاں ہوں ان سے اگر رنج و غم تو کیا حیرت

مسافران رہ میر ہیں ہیں مری غزلیں

 

تو انکو لفظوں کی بازی گری سمجھتا ہے

مرے لئے مری جاگیر ہیں ہیں مری غزلیں

 

کسی کی زلف گرہ گیر کے ہیں قبضے میں

مثال خطہء کشمیر ہیں مری غزلیں

 

بہ حال قلب شکستہ جو میں نے لکھا ہے

وہ قصہء دل دلگیر ہیں مری غزلیں

 

کہیں تو کوئی کمی رہ گئی ہے اے نوری

جبھی تو تشنہء تاثیر ہیں مری غزلیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ