رسولِ پاک کی سیرت سے روشنی پا کر

 

رسولِ پاک کی سیرت سے روشنی پا کر

تمام چاند ستارے ہمارے جادہ ہیں

جہاز و راکٹ و اسکائی لیب و طیّارے

بُراقِ سرورِ عالم سے استفادہ ہیں

 

انسانیت کو ان سے مِلا نسخۂ شفا

تریاق کے عجیب خزانے سخن میں تھے

کیمسٹری کی تجربہ گاہوں میں بھی نہیں

اجزائے کیمیا جو لُعابِ دہن میں تھے

 

انگشت کے نشان نُمایاں ہیں چاند پر

دیکھے ہیں آدمی نے جو منظر ثبوت ہیں

شق القمر سے ٹکڑے ہوئی سطحِ ماہتاب

جو آرہے ہیں چاند سے پتھر ثبوت ہیں

 

ذہن دنیا کا ہو گیا روشن

شبِ معراج کے اجالے سے

علمِ جیومیٹری نے پائی سند

قابّ قوسین کے حوالے سے

 

ہیں شاہِ دو جہاں کے خیالوں سے متفق

سائنس کے علوم میں جتنے اصول ہیں

مرّیخ، چاند، زھرہ، عطارد، خلا، دھنک

یہ سب مرے حضور کے قدموں کی دھول ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حسرت سے کھُلے گا نہ حکایت سے کھُلے گا
قربان مقدر پہ ترے وادیٔ ایمن
اذنِ ثنا ہُوا ہے نگہدارِ حرف سے
جب اپنے نامۂ اعمال پر مجھ کو ندامت ہو
بختِ خفتہ کے سبھی جڑ سے ہی کٹ جائیں درخت
جمال و حسن کا طُغریٰ ہے آپ کی چوکھٹ
تو روحِ کائنات ہے تو حسن کائنات
زندگی ملی حضور سے
عشقِ احمد سے قرینہ آ گیا
انجامِ التجا، شبِ غم کی سحر پہ ہو