اردوئے معلیٰ

رسولِ ہاشمی کا جو بھی شیدا ہو نہیں سکتا

ہمارا اس سے ہر گز کوئی رشتہ ہو نہیں سکتا

 

یہ باتیں روزِ روشن کی طرح ہیں آج بھی ظاہر

جسے کر دے خدا اونچا وہ نیچا ہو نہیں سکتا

 

سجائی جس نے چہرے پر نبئ پاک کی سُنت

جہنم میں وہ جلنے والا چہرا ہو نہیں سکتا

 

جو رہتا ہو ہمیشہ ہی خدا کی یاد سے غافل

بلا کا اس کے اوپر سے ازالہ ہو نہیں سکتا

 

یہی بولے مدینے کے مسافر لوٹ کر سب سے

نگاہوں سے ہماری دُور طیبہ ہو نہیں سکتا

 

جو غدارِ نبی ہیں حشر میں تم دیکھنا اُن کو

رسولِ پاک کا ہرگز نظارہ ہو نہیں سکتا

 

دعا ماں باپ کی ہر وقت جو بھی لیتا ہو شمسی

زمانے میں کبھی وہ شخص رسوا ہو نہیں سکتا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات