اردوئے معلیٰ

رنجور تھا میں، آپ نے مسرور کیا ہے

کاسہ مرا خیرات سے بھرپور کیا ہے

 

جلتا تھا بدن، سر پہ کڑی دھوپ تھی میرے

دامانِ کرم میں مجھے مستور کیا ہے

 

سرکار کی یادوں نے مرے دِل میں سما کر

دِل کو مرے خوشبوؤں سے معمور کیا ہے

 

بے کیف تھے، بے رنگ مرے شام و سحر تھے

ذِکرِ شہِ کونین نے پُرنور کیا ہے

 

ہر آن رہے ذِکرِ نبی قلب میں جاری

پاکیزہ عمل میں نے، یہ دستور کیا ہے

 

سرکار کی رحمت ہوئی اُس قوم پہ نازل

قرآن کو جس قوم نے منشور کیا ہے

 

سرکار نے بلوایا ہے صدیق ظفرؔ کو

دربانیِ دربار پہ مامور کیا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات