اردوئے معلیٰ

رنج و غم کی دھوپ میں سب پر سایہ کرنے والی ہے

میرے آقا تیری رحمت طوبیٰ کی اک ڈالی ہے

 

بند ہیں آنکھیں پیش نظر ہے گنبد خضریٰ کا منظر

شہر مدینہ جانے کی ہم نے اب یہ راہ نکالی ہے

 

فکر ہماری رکھے ہمیشہ دنیا ہو یا عقبی ہو

ایسا کسی کا ہو نہیں سکتا جیسا ہمارا والی ہے

 

مکہ مدینہ میں وہ رہیں یا عرش علیٰ کی سیر کریں

ایسے ہیں وہ بے مثل کہ ان کا ہر انداز مثالی ہے

 

باد صبا نے چھیڑی ہونگی باتیں باغ طیبہ کی

پھولوں کے رخسار گلابی گلشن میں ہریالی ہے

 

عشق شہ دیں کی دولت ہے میرے دل کے دامن میں

اس صورت میں کون کہے گا میرا دامن خالی ہے

 

شجر حجر ، چوپائے پرندے ، جن و بشر پر کیا موقوف

سارا عالم ان کا منگتا سارا جہاں سوالی ہے

 

فضل خدا سے رخش تصور روز مدینہ لیکر جائے

جنت جس کا نام ہے وہ تو اپنی دیکھی بھالی ہے

 

سرور دیں کی نعت نگاری تیرے کرم سے میں نے تو

دنیا میں بھی نام کمایا ، راہ جناں بھی پالی ہے

 

عشق کی آنکھیں اک لمحے کو ان سے ہٹیں تو مر جائیں

وہ جو ہے گنبد سرور دیں کا وہ جو سنہری جالی ہے

 

جب سے ملا حسان کا صدقہ جب سے ہوا ہے ان کا کرم

نعت نبی کی بست و بنت میں نورؔ کی طرز نرالی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات