اردوئے معلیٰ

 

رنگ بکھرے ہیں مدینہ میں وہ سرکار کہ بس

ہم نے دیکھا ہے مدینہ کا وہ گلزار کہ بس

 

رات ہوتی تو مدینہ میں نہ دیکھی ہم نے

یوں برستے ہیں مدینہ میں وہ انوار کہ بس

 

بھول جاتی ہے خودی آپ کے قدموں میں حضور

ہے وفا آپ کے قدموں میں وہ سرکار کہ بس

 

دل تو مدہوش ہی رہتا ہے در اُلفت پر

ذکر و اذکار میں ہوتا ہے وہ دیدار کہ بس

 

آنکھ لگنے کو بھی فرصت نہیں دیتی ہے نگاہ

خوب دن رات دمکتے ہیں وہ مینار کہ بس

 

ذکر کرتے تو ہیں لیکن وہ مدینہ سا کہاں

واں عجب نور میں ہوتے ہیں گل اذکار کہ بس

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات