رنگ بکھرے ہیں مدینہ میں وہ سرکار کہ بس !

 

رنگ بکھرے ہیں مدینہ میں وہ سرکار کہ بس

ہم نے دیکھا ہے مدینہ کا وہ گلزار کہ بس

 

رات ہوتی تو مدینہ میں نہ دیکھی ہم نے

یوں برستے ہیں مدینہ میں وہ انوار کہ بس

 

بھول جاتی ہے خودی آپ کے قدموں میں حضور

ہے وفا آپ کے قدموں میں وہ سرکار کہ بس

 

دل تو مدہوش ہی رہتا ہے در اُلفت پر

ذکر و اذکار میں ہوتا ہے وہ دیدار کہ بس

 

آنکھ لگنے کو بھی فرصت نہیں دیتی ہے نگاہ

خوب دن رات دمکتے ہیں وہ مینار کہ بس

 

ذکر کرتے تو ہیں لیکن وہ مدینہ سا کہاں

واں عجب نور میں ہوتے ہیں گل اذکار کہ بس

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حشر میں مجھ کو بس اتنا آسرا درکار ہے
شکستہ حال اپنے دل کو سمجھانے کہاں جاتے
رخ پہ رحمت کا جھومر سجائے کملی والے کی محفل سجی ہے
طیبہ کی اُس ریت پہ پھولوں کے مسکن قربان
حقیقتِ مصطفی کہوں کیا کہ اضطراب اضطراب میں ہے
قلم خوشبو کا ہو اور اس سے دل پر روشنی لکھوں
وہ جو شبنم کی پوشاک پہنے ہوئے
میں پہلے آبِ زم زم سے قلم تطہیر کرتا ہوں​
گل شاہ بحر و بر کا اک ادنیٰ غلام ہے
جشن میلاد النبیؐ ہے صاحب قرآن کا

اشتہارات