اردوئے معلیٰ

Search

رواں ہے کاروانِ رنگ و بُو سرکار کے دم سے

دو عالم کی رگوں میں ہے لہو سرکار کے دم سے

 

من و تو کی ہے گنجائش کہاں، سب کچھ اُنھی سے ہے

کہ میں سرکار کے دم سے ہوں، تو سرکار کے دم سے

 

مرے آئینہِ دل میں ہے عکسِ ذات ضو افگن

میں ہوں ہر دم خدا کے رُوبرُو سرکار کے دم سے

 

نہیں تھے وہ تو رب کو ماننے والا نہ تھا کوئی

معانی آشنا ہے لفظِ ھُوْ سرکار کے دم سے

 

کریں ہم کیوں نہ اپنی آبرو سرکار پر قرباں

کہ ہے قائم ہماری آبرو سرکار کے دم سے

 

وہ محبوبِ خدا ہیں، وجہ تخلیقِ دو عَالم ہیں

ہوئے آباد سارے کاخ و کُو سرکار کے دم سے

 

اُنھی کے نور سے یہ محفلِ ہستی ہوئی روشن

چراغاں ہے جہاں میں چار سُو سرکار کے دم سے

 

لگن بخشی ہمیں سرکار نے اِبطالِ باطل کی

شعار اپنا ہے حق کی جستجو سرکار کے دم سے

 

رسُولِ پاک کی نعتیں نہ کیوں محمودؔ گائیں ہم

ملا ہے ہم کو ذوقِ گفتگو سرکار کے دم سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ