اردوئے معلیٰ

Search

رویا ہوں میں اس شخص کے پیروں سے لپٹ کر

جس نے بھی کوئی بات سنائی تیرے در کی

 

ہیں عرض و سماوات تری ذات کا صدقہ

محتاج ہے یہ ساری خدائی ترے در کی

 

انوار ہی انوار کا عالم نظر آیا

چلمن جو ذرا میں نے اٹھائی ترے در کی

 

تازیست ترے در سے مرا سر نہ اٹھے گا

مر جاؤں تو ممکن ہے جدائی ترے در کی

 

صد شکر کہ میں بھی ہوں ترے در کا

صد فخر کہ حاصل ہے گدائی ترے در کی

 

پھر اس نے کوئی اور تصور نہیں باندھا

ہم نے جسے تصویر دکھائی ترے در کی

 

ہے میرے لیے تو یہی معراج عبادت

حاصل ہے مجھے ناصیہ سائی ترے در کی

 

آیا ہے نصیر آج تمنا یہی لے کر

پلکوں سے کیے جائے صفائی ترے در کی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ