رَب کا منشا تھا حضور ﷺ آپ کا ظاہر ہونا

رَب کا منشا تھا حضور ﷺ آپ کا ظاہر ہونا

آشکار اُس نے کیا خوب، مُصوِّر ہونا

 

آپ کی رفعت و عظمت کا اشارہ ہے فقط

بابِ افلاک کا وا، آپ کی خاطر ہونا

 

نعمتیں سب ہی عطا کی تھیں اُنہیں ﷺ رَبّ نے مگر

اُن ﷺ کا مقصود رہا صابر و شاکر ہونا

 

خاص تدبیر مرے رَبّ کی تھی ہنگامِ خطر

غار میں آپ کے صدیقؓ کا حاضر ہونا

 

جو کوئی آپ کے بعد اور نبی بھی مانے

اس کی پیشانی پہ تحریر ہے کافِر ہونا

 

عصمتِ غیرِ نبی کا جو کوئی قائل ہو!

اس کی تقدیر، اندھیروں کا مسافر ہونا

 

کیسے بچوں نے کیا دشمنِ دیں کو فی النَّار

کام آیا نہ اَبوجہل کا شاطِر ہونا!

 

ساری ازواج میں صدیقؓ کی بیٹی کا شرف

خُلقِ خورشیدِ رِسالت کا مُفَسِّر ہونا!

 

یہ بھی اِک معجزۂ مدحتِ سرور ﷺ ہے عزیزؔ

اِک گنہگار کے الفاظ میں ظاہر ہونا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یا رب ترے محبوب کا جلوا نظر آئے
دلوں میں عشق احمد کو بسائے ایسی مدحت ہو
ان کے نام پاک پر مرجائیے
وہ اعلی و اولی ، ہمارے محمد
دِلا ہم کو محمد کی حمایت ہے تو کیا غم ہے
آنے والو یہ بناوؔ شہرِ مدینہ کیسا ہے
چمک چمک کے ستارے سلام پڑھتے ہیں
در جاں چو کر منزل، جانانِ ما محمد
خامشی ، غارِ حرا ، دِل میرا
اُنہی کا نور پھیلا ہے جدھر دیکھو جہاں دیکھو