اردوئے معلیٰ

رُخ مہر ہے یا مہ لقا ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں​

ہاں حسن روئے مصطفیٰ ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں​

 

حُسن دبستان جناں ، نیرنگی کون و مکاں​

گر وہ نہ ہوں جلوہ نما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں​

 

تاجِ سر کسریٰ کہاں ، پیشانیِ زہرہ کہاں​

نعلینِ پاکِ مصطفیٰ ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں​

 

برقِ جلالِ کبریا ، وہ لن ترانی کی صدا​

ہیں آپ اور عرشِ عُلا ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں​

 

اوروں نے جب نفسی کہا ، اِذہب اِلیٰ غیری کہا​

تم نے کہا انی لہا ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں​

 

مستِ مئے بغداد ہم ، ہے غوثِ اعظم کا کرم​

فکرِ الم، خوفِ بلا ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں​

 

طرز رضا کی پیروی ، عاصم یہ تیری شاعری​

حُسنِ سُخن، فکرِ رَسا ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں​

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات