اردوئے معلیٰ

رکھے ہیں غمِ جاں سے کئی حرف بچا کر

لکھوں گا انہیں نعت میں الفاظ بنا کر

 

فرقت کے یہ دن بیت ہی جائیں گے کسی دن

سرکار نوازیں گے مجھے پاس بُلا کر

 

اک اشک ڈھلکتا ہے مرے دیدۂ تر سے

اک درد دھڑکتا ہے مرے دل میں سما کر

 

گنبد کا حسیں عکس مرے پیشِ نظر ہے

بیٹھا ہوں نئی نعت کا ماحول بنا کر

 

ہے دل میں نہاں حُسنِ محمد کا قصیدہ

اے ربِ محمد! مجھے الفاظ عطا کر

 

تقدیر بدل دی مری ، مکی مدنی نے

ہونٹوں پہ مرے نعت کے نغمات سجا کر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات