رہوں گر دور تجھ سے آتشِ فرقت جلاتی ہے

رہوں گر دور تجھ سے آتشِ فرقت جلاتی ہے

قریب آؤں تو تیرے سانس کی حدت جلاتی ہے

 

تجھے چھو لوں تو جل اٹھوں ، نہ چھو پاؤں تو جلتا ہوں

عجب نسبت ہے یہ جاناں ، بہ ہر صورت جلاتی ہے

 

تجھے تھا چند ساعت میرے ساتھ دھوپ میں چلنا

مجھے اب تک مرے احساس کی شدت جلاتی ہے

 

کروں پرواز تو کھینچے مجھے پاتال میں دھرتی

جو دھرتی پر رہوں تو خواہشِ رفعت جلاتی ہے

 

کسی دن راکھ ہو جاؤں گا جانِ نقش جل جل کر

ابھی تو دھیمے دھیمے تیری ہر عادت جلاتی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ