رہِ صواب کو چھوڑیں کبھی نہ فرزانے

رہِ صواب کو چھوڑیں کبھی نہ فرزانے

ہماری طرح سے وہ تو نہیں ہیں دیوانے

 

چلے ہیں فلسفۂ عشق سب کو سمجھانے

جنابِ شیخ کو کیا ہو گیا خدا جانے

 

پھِرا کے سَبحۂ گرداں کے ایک سو دانے

چلا ہے زاہدِ ناداں خدا کو اپنانے

 

وہ اپنی بات سے پھرتے نہیں کبھی کہہ کر

ہم اپنے دین سے پھر جائیں ایسے دیوانے

 

قدم اٹھانے سے پہلے تجھے خبر کر دوں

یہ راہِ عشق ہے کھوٹے کھرے کو پہچانے

 

صنم کدوں میں ہی جا کر کریں تکلف کیا

ہمارے کعبۂ دل میں ہزار بت خانے

 

اسی کے جادۂ پنہاں کا دل ہے شیدائی

حقیقت اتنی ہے باقی تو سب ہیں افسانے

 

ہمارے دل میں ہے کس کا یہ زخم یوں گہرا

کسی کے پاس ہو گہری نظرؔ تو پہچانے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جب خزاں آئے تو پتّے نہ ثَمَر بچتا ھے
لرزتے جسم کا بھونچال دیکھنے کے لیے
جہانِ فن میں دُور دُور تک برائے نام ہو
وہ میرے پاس آ کے حال جب معلوم کرتے ہیں
باجرے کی جو اک خشک روٹی ملی
عشق سے پہلے بُلاتا تھا میں تُو کر کے اُسے
کیا مرے دکھ کی دوا لکھو گے
کہیں بھڑکا ہوا شعلہ کہیں پر پھول فن میرا
نا رسائی کی تکالیف اُٹھاؤ کب تک
اُڑتے ہوئے غبار میں اجسام دیکھتے