رہیں گے قصرِ عقائد نہ فلسفوں کے محل

رہیں گے قصرِ عقائد نہ فلسفوں کے محل

جو میں نے اپنی حقیقت کا انکشاف کیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

گِنے چُنے ھوئے سینوں میں جھانکتا ھے یہ نُور
ہر شخص نے جشنِ لب و رُخسار منایا
جلالؔ عہد جوانی ہے دو گے دل سو بار
کٹ گئی عمر تو سمجھ آیا
دنیا میں کوئی عشق سے بد تر نہیں ہے چیز
غم بک رہے تھے میلے میں خوشیوں کے نام پر
مختصر سی زندگی میں کتنی نادانی کرے
وہ جو ترک ربط کا عہد تھا کہیں ٹوٹنے تو نہیں لگا
دیا ہے مشورہ تم نے تو کچھ دن جی کے دیکھوں گی
خاموش ہو گئیں جو امنگیں شباب کی

اشتہارات