زائرِ کوئے جناں آہستہ چل

زائرِ کوئے جناں آہستہ چل

دیکھ آیا ہے کہاں آہستہ چل

 

جیسے جی چاہے جہاں میں گھوم پھر

یہ مدینہ ہے یہاں آہستہ چل

 

بارگاہِ ناز میں آہستہ بول

ہو نہ سب کچھ رائیگاں آہستہ چل

 

نقش پائے سرورِ کونین کی

ہر طرف ہے کہکشاں آہستہ چل

 

در پہ آیا ہوں بڑی مدّت کے بعد

اے میری عمرِ رواں آہستہ چل

 

حاضری میں ہیں ملک ستّر ہزار

قدسیوں کے درمیان آہستہ چل

 

دیکھ لوں جی بھر کے شہرِ مصطفی

میرے میرِکارواں آہستہ چل

 

جالیوں کے سامنے جلدی نہ کر

وہ ہیں نازشِ مہرباں آہستہ چل

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ