اردوئے معلیٰ

Search

زباں پر ہے میری نعتِ پیمبر

اٹھی موجِ مسرت دل کے اندر

 

ثنا خواں جس کا ہو خلاقِ اکبر

ثناء اُس کی بشر سے ہو تو کیونکر

 

زمیں پر ہے نہ کوئی آسماں پر

کہیں ان کا مقابل ہے نہ ہمسر

 

خدا کی ذاتِ بے ہمتا کا مظہر

صفاتِ رب کا مجموعہ سراسر

 

زہے صورت کہ ہے بے حد منور

وہ بوئے زلف رشکِ مشک و عنبر

 

وہ دندانِ مبارک مثلِ گوہر

وہ انکے عارض رنگیں گل تر

 

سرِ مژگاں وہ جیسے تیر و نشتر

وہ ابروئے خمیدہ مثلِ خنجر

 

منور وہ، مقدس وہ، وہ انور

مطہر وہ ہے طاہر وہ، وہ اطہر

 

ہے احمد وہ، محمد وہ، وہ دلبر

ہے وہ بندہ خدا کا بندہ پرور

 

وہ ہادی وہ ہی مہدی وہ ہی رہبر

وہ فاتح وہ دلاور وہ مظفر

 

گہر ہائے حقیقت کا شناو

علومِ معرفت کا وہ سمندر

 

رسائی اس کی ہے عرشِ بریں پر

شبِ اسرا نے دکھلایا یہ منظر

 

گروہِ انبیاء کا وہ ہے افسر

وہ مہتابِ درخشاں سب میں اختر

 

نبی آئے یہاں بہتر سے بہتر

نہیں کوئی مگر ان کے برابر

 

ہیں چار اصحاب یہ ہر دم کے یاور

ابو بکرؓ و عمرؓ، عثمانؓ و حیدرؓ

 

جہانِ چار سو میں جلوہ گستر

انہیں سے روشنی ہے دل کے اندر

 

متاعِ زندگی پر ان کی ٹھوکر

وہ مستغنی وہ ہے دل کا تونگر

 

غذا نانِ جویں ان کی تھی اکثر

کجھوروں کی چٹائی ان کا بستر

 

جو ان کا ہو گیا چمکا مقدر

جو رو گرداں ہوا کافر ستمگر

 

وہ کام آئے سرِ میدانِ محشر

پلائے امتی کو جامِ کوثر

 

کتاب ان کی حقائق کا سمندر

بتاتی ہے ہمیں معروف و منکر

 

شریعت آپ کی شمع منور

دکھاتی ہے ہمیں ہر راہ بہتر

 

وہ آئے جبکہ اس باغِ جہاں میں

چمن تھا یہ خزاں آغوش وابتر

 

خدا کے گھر میں تھی پوجا بتوں کی

حرم تھا بت کدہ اللہ اکبر

 

قدم کے رنجہ فرماتے ہی لیکن

کلی چٹکی مہک اٹھا گل تر

 

بچھا سبزہ قدم بوسی کو انکی

مؤدب ہو گئے سرو و صنوبر

 

طیور نغمہ خواں سب چہچہائے

ترانے گائے مل کر روح پرور

 

بڑھی رونق جو صحنِ گلستاں کی

چلی بادِ بہاری مسکرا کر

 

سدھارا حالِ بد اہل چمن کا

چمن والوں کی خاطر کھائے پتھر

 

دریدہ پیرہن تھی آدمیت

کھلے انساں پہ سب انساں کے جوہر

 

جھکا تھا سر جو پیشِ لات و عزیٰ

جھکایا اسکو پیشِ رب برتر

 

غرض انسان کو جینا سکھایا

کہ جنکی زندگی پہلے تھی دو بھر

 

نظرؔ سے نعت یہ سن کرسبھی نے

کہا صد آفریں پڑھئے مکرر

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ