زخم کتنے لگے ہیں چاقو سے

زخم کتنے لگے ہیں چاقو سے

کون پوچھے یہ بات آہو سے

 

شہر میں یاد آتا ہے گاؤں

اور وہ لوگ دست و بازو سے

 

دوستی ہے خلوص کا رشتہ

تولئے مت اِسے ترازو سے

 

جو جہاں میں مثال بنتے ہیں

اب کہاں ہیں وہ لوگ باہو سے

 

لفظ بیساکھیاں بنیں کب تک

لِکھ کوئی داستان آنسو سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہیں مرے وجود میں موجزن مری الفتوں کی نشانیاں
اِدھر اُدھر کہیں کوئی نشاں تو ھوگا ھی
اک آدھ روٹی کے واسطے کیسے کیسے چکر چلا رھا ھُوں
تمہیں لگے تو لگے کچھ بھی لا محالہ برا
دکھانے کو سجنا سجانا نہیں تھا
خوشبوئے گُل نظر پڑے ، رقص ِ صبا دکھائی دے
میرا سکوت سُن ، مِری گویائی پر نہ جا
غضب کی دُھن، بلا کی شاعری ہے
وہ زخم جو معمول سمجھتے تھے ، بھرے کیا؟
بات یوں ہے کہ اب دل سلامت نہیں

اشتہارات